
- Writer: Saeed Ibrahim
- Category: Urdu Adab
- Pages: 245
- Stock: In Stock
- Model: STP-13962
عصر حاضر میں لبرل اور ریشنل افکار کو اجاگر کرنے میں سعید ابراھیم ایک اہم قابل قدر شخصیت ہیں۔ ان کی ایک اپنی مقبولیت اور فین فالونگ ہے۔۔ انہوں نے بھی نوجوان نسل کو متاثر کیا ہے creativity اور جمالیات ان کی رگ رگ میں سموئی ہوئی ہے۔ سچی بات ہے انہوں نے اس کے علاؤہ کچھ کیا بھی نہیں ہے ، میرا مطلب دنیا داری سے ہے ، اس لئے وہ سچے تخلیق کار ہیں، جنہیں فطرت نے انہی مقاصد کے لئے پیدا کیا ہے، ان کی نظر اور فکر بڑی گہری ہوتی ہے۔۔ اگرچہ ان کے مطالعے کی بھی کمی نہیں ۔ لیکن وہ افکار کے موتی اپنے مشاہدے کے دریا سے نکال لاتے ہیں۔
وہ فرد کی آزادی کے بے حد قائل ہیں۔ اس پر کسی نظرئیے ، مذہب، عقیدے، اخلاقیات کو ٹھونسنے کے سخت خلاف ہیں۔ خوش ہونا، ہنسنا ہنسانا، گانے گانا، رقص کرنا، ان کا دین فطرت ہے، وہ کسی بھی طرح کی گھٹن کے سخت خلاف ہیں۔۔فیض میلے میں اپنی فیملی کے ساتھ ملے، جب سے مہک ان کی زندگی میں آئی ہے، سعید صاحب پر یوں کہئے بہار آ گئی ہو، انہیں وہ وقت اور ماحول ملا جس میں وہ سنجیدگی سے لکھ سکیں ۔ پہلے ان کی باکمال کتاب 'سیکس اور سماج' آئی ، اب نئی کتاب 'تعلیم اور تباہی'پاکستانی ریاست نے جو نسلوں کی تعلیم کے زریعے تباہی کر رکھی ہے، اس کا ماتم ہر دردمند ذی شعور صاحب دانش نے کیا ہے،۔ میں نے برسوں پہلے 'تعلیم اور ہماری قومی الجھنیں ' لکھی-
اب سعید صاحب نے موضوع کو معاشرے پر پھیلا کر اس کے کئی نئے رخ سامنے ہم تک لائے ہیں۔ تعلیم کے ساتھ لفظ تباہی بڑا چونکا دینے والا ہے، لیکن میرا ماننا ہے کہ ہماری قوم جس بے حسی کے اندھے کنویں میں گر چکی ہے۔ اسے ایسے ہی بولڈ ، کھلے ، زور دار آوازوں سے جگایا جا سکتا ہے-سعید ابراہیم عہد حاضر کے ہمارے لبرل تخلیق کاروں کے گلدستے کا خوبصورت گلاب ہیں۔
زیرِتصنیف کتاب 'تعلیم اور تباہی' سے ایک اقتباس
تعلیم کہ جو فرد کی پوری ذات اور زندگی کا احاطہ کرتی ہے اور اسے سماج میں ایک بامعنی، مثبت اور معزز مقام حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے، ہم اس کی ماہیت اور اہمیت کے ادراک سے مکمل طور پر محروم ہیں۔اکثر والدین کا خیال ہوتا ہے کہ مہنگی تعلیم کے بل پر کوئی اہم عہدہ یا مقام حاصل کرنے کے بعد اولاد ان کے بڑھاپے کا سہارا بنے گی، جبکہ نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ عہدہ یا مقام حاصل کرنے کے بعد اولاد والدین سے ہی جان چھڑانے کے بہانے ڈھونڈنے لگتی ہے اور والدین اپنی مظلومیت کے قصے سناتے سناتے اس دنیا سے گزر جاتے ہیں۔
طبقاتی تعلیم اپنی سرشت میں سراسر غیرانسانی ہوتی ہے۔ یہ خود غرض اور لالچی افراد پیدا کرتی ہے جن کا مقصد زیادہ سے زیادہ وسائل پر قبضہ کرنا ہوتا ہے۔ایسے افراد کا سماج کی اجتماعی بہتری سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا بلکہ یہ دوسروں کو کچل کر آگے بڑھنے کو ہی نہ صرف کامیابی گردانتے ہیں بلکہ اس پر بنا کسی ندامت کے فخر بھی کرتے ہیں۔یہ وسائل سے محروم افراد کے آگے خود کو ایک ماڈل کے طور پر پیش کرکے انہیں احساسِ کمتری میں مبتلا کرتے ہیں۔ حقیقت میں یہ ایک ایسی بداخلاقی ہے جو سارے سماج میں وائرس کی طرح پھیلتی چلی جاتی ہے۔
سعید ابراہیم
Book Attributes | |
Pages | 245 |